بیجنگ10جنوری(آئی این ایس انڈیا)چین کے حکام نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر شمال مغربی علاقے سنکیانگ پر بارڈر کنٹرول مزیدسخت کرنے کا حکم دیا ہے۔منگل کو چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق شنگ جیانگ کے گورنر شہرت ذاکر نے پیر کے روزمرکزی سالانہ سیاسی اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ گذشتہ سال لیے کیے جانے والے اقدامات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سنکیانگ صوبے کی سرحدیں پاکستان سمیت افغانستان اور دیگر چار وسطی ایشیائی ممالک سے ملتی ہیں۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اویغور شدت پسندوں نے بعض اطلاعات کے مطابق شام میں جاری لڑائی میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے اور تھائی لینڈ میں بدھوں کے مندر پر ہونے والے حملے کا الزام بھی انھیں پر لگایاجاتا پے۔خیال رہے کہ چین کی اویغور اقلیتی برادری کی اکثریت سنکیانگ میں رہائش پذیر ہے اورسنکیانگ کی45فیصد آبادی ایغورمسلمانوں پرمشتمل ہے۔چین میں دو کروڑ اویغور مسلمان آباد ہیں اور چینی صوبے سنکیانگ سے سینکڑوں اویغور چینی حکام کی جانب سے کارروائیوں سے بچنے کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے راستے ترکی جا رہے ہیں۔گذشتہ کچھ برسوں کے دوران چین کے حکام نے علاقے میں پر تشدد واقعات کی ذمہ داری ایغور پر عائد کی ہے جبکہ ایغور برادری نے ان واقعات کے الزامات کومستردکیاہے۔ایک مدت سے شمال مشرقی چین کے اویغور اپنے ملک میں آزادی پر پابندیوں سے تنگ آ کرسرحد پار وسط ایشیا کے پڑوسی ممالک میں جاتے رہے ہیں، لیکن جوں جوں خطے میں چین کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے وسط ایشیاء میں بھی اویغوروں کے لیے ایک آزاد ملک کی مہم چلانا تقریباّ ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔